فکاہی ادب
قسم کلام: اسم معرفہ
معنی
١ - ظریفانہ اور مزاحیہ تحریریں اور تصانیف، ایسا ادب جسکا تعلق ظرافت و مزاح سے ہو۔ "السنۂ شرقیہ میں فکاہی ادب کا سرمایہ اچھا خاصا ہے۔" ( ١٩٦٥ء، مباحث، ١٥٤ )
اشتقاق
عربی زبان سے ماخوذ صفت 'فکاہی' کے بعد اسی زبان سے مشتق اسم 'ادب' لانے سے مرکب توصیفی بنا جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے ١٩٦٥ء کو "مباحث" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - ظریفانہ اور مزاحیہ تحریریں اور تصانیف، ایسا ادب جسکا تعلق ظرافت و مزاح سے ہو۔ "السنۂ شرقیہ میں فکاہی ادب کا سرمایہ اچھا خاصا ہے۔" ( ١٩٦٥ء، مباحث، ١٥٤ )
جنس: مذکر